اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ ایران کی مدبر اور بابصیرت قیادت ان الزامات کو بے بنیاد ثابت کر کے یہ نیا امریکی حربہ بھی ناکام بنا دے کی ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کی میڈیا ٹیم سے بات چیت کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے منفی طرز عمل اورمذموم پالیسیوں کے سبب پوری دنیا میں رسوا ہو چکا ہے ، اور ہر علاقہ میں فوجی اور سیاسی حوالے سے اسے شکست کا سامنا ہے، اس کی تمام سازشیں اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہیں ، اب اقوام عالم پوری طرح بیدار ہیں ، اس کی سازشوں سے پوری طرح باخبر ہیںاور سمجھتی ہیں کہ شیطان بزرگ امریکہ ہی ہے، اس نے جس طرح مصر ،تیونس، عراق اور بحرین میں عبرتناک شکست کھائی اسی طرح بہت جلد دیگر ممالک میںبھی اسے اپنے عزائم کی تکمیل میں ناکامی ہو گی اور پوری دنیا اس کی بربادی کامنظر دیکھے گی۔ علامہ راجہ عاصرعباس جعفری نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے اندر سرمایہ دارانہ نظام دم توڑ رہا ہے اور اس نظام کے خلاف امریکہ کے اندر سے اٹھنے والی احتجاج کی لہر اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان امریکہ کی جانب سے جمہوری اسلای ایران پر لگائے جانے والے الزامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک ڈوبتے ہوئے ٹائی ٹینک کی جانب سے آزمائے جانے والے ایسے حربوں سے خبردار رہیں اور اسلامی ممالک میں جاری اسلامی بیداری کی تحریکوں کو ان حربوں سے متاثر نہ ہونے دیں ، امریکہ انتہائی شاطر اور مکار ہے ،وہ جس طرح افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے اسی طرح دیگر اسلامی ممالک کو بھی بے بنیاد الزامات کی زد میں لینے کی کوشش کرے گا اس لیے جہان اسلام کو چاہیے کہ خبردار رہے اور ہوش مندی سے کا م لے ، انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کی رائے عامہ کا احترام نہ کرنے اور اسرائیل کی بے جا ناز برداریوں نے امریکہ اس نہج پر پہنچا دیاکہ وائٹ ہائوس کے اندر بیٹھے ہوئے افرادبھی مایوس نظر آتے ہیں اور وہ دنیا کے سامنے تمسخر اور تحقیر کی علامت بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پہلے افغانستان میں اپنی شکست کے حوالے سے پاکستان پر دبائو ڈالا اور اور اب ایران کوجھوٹے الزامات کی زد میں لے کر اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرہا ہے انشاء اللہ ایران کی بیدار مغز قیادت اس امریکی پروپیگنڈے کو بھی ناکام بنا دے گی ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جہان اسلام امریکی عنکبوت کے جا ل سے باہر نکل کے حقیقی آزادی حاصل کرے ۔
.......
/110